April 22, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/mrcapwebpage.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

منصوبہ بنایا ہے۔ اس ضمن میں اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیل ہاگری نے کہا کہ رفح میں مقیم فلسطینیوں کو مخصوص علاقوں کی جانب منتقل کرنا ہمارے عمل کی اہم کنجی ہے۔ امریکہ کے سیکریٹری جنرل انتونی بلنکن نے کہا کہ ہمیں اسرائیل کے وہاں کے شہریوں کیلئے تیار کئے گئے منصوبے کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں۔

Palestinian during iftar. Photo:INN

اسرائیل نے رفح میں اپنی زمینی کارروائی سے قبل غزہ کے سب سے جنوبی قصبے رفح میں مقیم ۴ء۱؍ ملین فلسطینیوں کی آبادی والے حصے کو زبردستی اکھاڑ پھینکنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس ضمن میں اسرائیل کے چیف ملٹری ترجمان ڈینیل  ہاگری نے کہا کہ رفح کے فلسطینیوں کو مخصوص علاقوں کی طرف منتقل کرنا رفح میں زمینی کارروائی کی اہم کنجی ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہاں حماس کے ۴؍ فوجی دستہ تعینات ہیں۔ ہاگری نے رپورٹرس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تقریباً ۱ء۴؍ ملین افراد کو یہاں سے مخصوص علاقوں میں منتقل کیا جائے۔
تاہم، انہوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہاں سے فلسطینیوں کی روانگی کب عمل میں آئے گی یا رفح پر اسرائیلی حملے کب شروع ہوں گے؟البتہ انہوں نے یہ کہاکہ  اسرائیل کو اس عمل کو انجام دینے کیلئے درست وقت کا انتظار ہے اور وہ مصر سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مصر کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ بے گھر فلسطینی سرحد پار کر کے مصر کی جانب نقل مکانی کریں۔

فلسطینی بچے غذا کیلئے قطار میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: ایکس
امریکہ رفح کے بارے میں اپنے تحفظات پر اسرائیل کے ساتھ ڈٹا ہےجبکہ بدھ کو امریکہ کے سیکریٹری جنرل انتونی بلنکن نے کہا تھا کہ واشنگٹن کو اس حوالے سے اسرائیل کے وہاں کے شہریوں کیلئے منصوبے کے تعلق سے کوئی معلومات نہیں ۔
انہوں نے رپورٹرس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اگر اسرائیل رفح میں فوجی کارروائیاں کرتا ہے تو ہمیں ایسا منصوبہ بنانے کی ضرورت ہے جس سے شہریوں کو کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو۔ہم نے اب تک ایسا کوئی منصوبہ تیار نہیں کیا ۔ 
رفح میں فلسطینیوں کی قسمت اسرائیل کے حامیوں، جن میں امریکہ اور انسانی امداد کے گروپس شامل ہیں، کیلئے تشویش کا باعث ہے کیونکہ رفح میں اسرائیل کی کارروائیاں، جہاں بے گھر افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، عظیم تباہی ثابت ہو سکتی ہیں۔رفح غزہ میں انسانی امداد کے داخل ہونے کیلئے اہم پوائنٹ ہے۔
اس ضمن میں اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نتین یاہو نے کہا کہ رفح پر حملہ اسرائیل کے حماس کو مٹانے کے اہم مقصد کیلئے ضروری ہےلیکن تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ مقصد ناکام ہو سکتا ہے۔

غزہ میں فلسطینی خواتین افطار کی تیاری کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
خیال رہے کہ رفح میں ان فلسطینیوں کی بڑی تعداد موجود ہے جنہیں اسرائیل نے غزہ کے چاروں کونے سے نقل مکانی پر مجبور کیا تھا۔ رفح خیموں سے بھرا ہے۔ 
جنگ کے آغاز میں اسرائیل نے فلسطینیوں کو رفح کی جانب ہجرت کا حکم دیاتھا اور اسے ’’سیف زون‘‘ قراردیا تھا جبکہ امدادی کارکنان کا کہنا تھا کہ وہاںبڑی تعداد میں بے گھر فلسطینیوں کے قیام کے انتظامات نہیں کئے گئے تھے اور یہ علاقہ بھی اسرائیلی فضائی حملوں کا نشانہ بنا تھا۔ اس درمیان غزہ کے اطراف جنگ جاری ہے۔ 
واضح رہے کہ اب تک اسرائیلی حملوں میں غزہ کے ۳۱؍ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق جبکہ ۷۰؍ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔تاہم، اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کی ۸۵؍ فیصد آبادی بے گھر ہو گئی ہے۔ اسرائیل نے غزہ کی اہم عبادتگاہوں اور تعلیمی اداروں کوبھی نشانہ بنایا ہے۔
بدھ کو جنوبی غزہ میں یو این آر ڈبلیو اے کے غذائی تقسیم کے حصے میں بھی اسرائیل نے حملے کئے تھے جس کے نتیجے میںایجنسی کا ایک عملہ جاں بحق جبکہ ۲۲؍ زخمی ہوئے تھے۔یو این آر ڈبلیو اے کے مطابق گزشتہ ۵؍ ماہ میں اب تک اس کے ۱۶۵؍ کارکنان اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ 
اسرائیلی حملوں کے سبب غزہ میں تباہی ہے جبکہ غزہ کی آدھی آبادی صاف پانی، غذا اور ادویات کی کمی کا سامناکر رہی ہےجبکہ ۷؍لاکھ افراد بھکمری کا شکار ہیں۔ خاص طورپر شمالی غزہ میں بھکمری میں بڑے پیمانے اضافہ ہو رہا ہے۔خیال رہے کہ امریکہ اور دیگر ممالک نے گزشتہ ہفتوں میں ایئر ڈروپ کے ذریعے غزہ میں انسانی امدادپہنچائی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *