April 22, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/mrcapwebpage.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

جرمنی میں عالمی یوم خواتین سے ایک دن قبل ’’یوم انسداد زن بیزاری‘‘ دن منایا جاتا ہے جس کے تحت پولیس ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے جو خواتین کے خلاف نفرت انگیز مشمولات عام کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں پولیس نے ۴۵؍ مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی ہے۔

International Women`s Day celebration in Germany. Photo: X

جرمنی میں یوم عالمی خواتین کی تقریب۔ تصویر: ایکس

جرمن پولیس ان لوگوں پر چھاپہ مار کارروائی کررہی ہے جو خواتین کے خلاف جنسی نفرت انگیز تقاریر آن لائن پوسٹ کر رہے ہیں۔ جرمن حکام نے جمعرات کو پورے جرمنی میں ایسے لوگوں کے خلاف چھاپے مارے جن پر شبہ ہے کہ وہ عورتوں کے خلاف جنس کی بنیاد پر نفرت انگیز تقریر آن لائن پوسٹ کر رہے ہیں۔ ڈی پی اے کے مطابق پولیس نے صبح سویرے ۱۱؍ ریاستوں میں گھروں پر چھاپے مارے اور ۴۵؍مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی۔ تاہم، مشتبہ افراد میں سے کسی کو حراست میں نہیں لیا گیا۔ 
یہ چھاپے ’’انٹرنیٹ پرزن بیزاری کے خلاف جنگ‘‘ کے سالانہ دن کا حصہ تھے جو۲۰۲۲ءمیں شروع ہوا اور خواتین کے عالمی دن سے ایک دن قبل آتا ہے۔ جرمنی میں خواتین کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے کو نفرت پر اکسانے کے جرم میں سزا دی جا سکتی ہے۔ 
ان چھاپوں کی تیاری میں حکام نے ان پوسٹس کیلئے انٹرنیٹ کی اسکریننگ کی جنہوں نے ممکنہ طور پر زن بیزاری کی اور قوانین کو توڑا اور مصنفین کی شناخت کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد یہ نام ان ریاستوں میں سرکاری وکیل کے دفاتر کو بھیجے گئے جہاں مشتبہ افراد رہتے ہیں تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا تحقیقات کو آگے بڑھانا ہے۔ 
 غیر قانونی سمجھی جانے والی گفتگو میں ایسی پوسٹس شامل ہیں جن میں خواتین کو جنسی طور پر بدنام کیا جاتا ہے اور ان کی توہین کی جاتی ہے، یا عوامی طور پر عریاں تصاویر بھیجنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ڈی پی اے نے رپورٹ کیا کہ حکام نے ان پوسٹس کی بھی نشاندہی کی جو عصمت دری یا جنسی حملے کی وکالت کرتی ہیں یا تشدد یا قتل کی ویڈیوز تقسیم کرتی ہیں۔ 
زن بیزاری مخالف قانون موجود ہونےکے باوجود، خواتین کی تذلیل یا انہیں دھمکی دینے والی آن لائن پوسٹس کے ذمہ داروں کو اکثر سزا نہیں ملتی، اور بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ وہ آن لائن حملوں کے خوف سے عوام کی توجہ سے گریز کرتی ہیں۔ ان چھاپوں کو فرینکفرٹ میں سائبر جرائم کا مقابلہ کرنے والے جرمنی کے مرکزی دفتر، فیڈرل کریمنل پولیس آفس، اور کئی ریاستی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انجام دئیے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *