April 25, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/mrcapwebpage.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Gaza


فلسطین کے جنگ زدہ علاقے غزہ میں فوری فائر بندی، اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہد، غزہ میں فوری امداد کی فراہمی کو سہل بنانے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے پیش رفت سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی امریکہ کی قرار داد پر آج (جمعے کو) رائے شماری متوقع ہے۔

قبل ازیں امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے ’العربیہ‘ اور ’الحدث‘ کے ساتھ براہ راست گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ نے سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں غزہ میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ سلامتی کونسل کے رکن ممالک اس قرارداد کی مکمل حمایت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد ایک مضبوط اور موثر پیغام ہے۔

جمعرات کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے حوالے سے امریکی قرارداد کی حمایت کریں۔

قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ نے قاہرہ میں چھ عرب ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی۔ ان ممال کا قاہرہ میں امریکی وزیر خارجہ کی آمد سے قبل اجلاس ہوا جس میں انہوں نے غزہ میں فوری اور جامع جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔

بر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق قرارداد کی منظوری سے واشنگٹن کے اتحادی اسرائیل پر غزہ میں شہریوں کے تحفظ اور مزید انسانی امداد کی اجازت دینے کے لیے دباؤ بڑھے گا۔

اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان نیٹ ایونز نے کہا کہ یہ قرارداد 15 رکنی سلامتی کونسل میں ’مشاورت کے کئی ادوار‘ کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔

یہ قرارداد اسرائیل کے بارے میں واشنگٹن کے موقف میں مزید سختی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس سے پہلے غزہ میں پانچ ماہ تک جاری رہنے والی اسرائیلی جارحیت کے لیے امریکہ لفظ ’جنگ بندی‘ تک کی مخالفت کرتا رہا ہے اور ایسی کئی قراردادوں کو ویٹو کر چکا ہے، جن میں فوری فائر بندی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

اب امریکہ کی مجوزہ قرارداد کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ تقریباً چھ ہفتوں تک جاری رہنے والی ’فوری اور پائیدار فائربندی‘ شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے اور اس سے انسانی امداد کی فراہمی بھی ممکن ہو گی۔

مسودے کے متن میں فائر بندی پر امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت کی حمایت کی گئی ہے اور ’پائیدار امن‘ کے حصول میں کوششوں کو تیز کرنے کے لیے فائر بندی کی مدت کو استعمال کرنے کی حمایت پر زور دیا گیا ہے۔

غزہ میں جنگ بندی کی امریکی قرارداد کے اہم نکات

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق غزہ سے متعلق قرارداد کے مسودے کئی اہم نکات میں شامل ہیں۔

*فوری اور پائیدار جنگ بندی جس میں ہر طرف سے شہریوں کی حفاظت کی جائے، ضروری انسانی امداد کی فراہمی کی اجازت دی جائے، انسانی مصائب کو کم کیا جائے اور جنگ بندی کو محفوظ بنانے اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کی جائے۔

سلامتی کونسل کی قرارداد 2720 پر عمل درآمد کرتے ہوئےدیر پا امن کے حصول کے لیے سفارتی مساعی کو تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

تمام فریقین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ داریوں کی تعمیل کریں۔ بین الاقوامی انسانی قانون، شہریوں اور شہری اشیاء کے تحفظ، انسانی امداد کی فراہمی اور امدادی تنظیموں، طبی خدمات اور انفراسٹرکچر کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

پوری غزہ کی پٹی میں شہریوں تک انسانی امداد کے بہاؤ کو تیز کرنے اور بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔

غزہ میں شہری آبادی کی کسی بھی جبری نقل مکانی کو مسترد کردیا گیا ہے اور اسے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

حماس اور دیگر مسلح گروپوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ باقی تمام یرغمالیوں تک امداد پہنچائیں۔

تمام فریقین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی زیر حراست افراد کے حوالے سے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تعمیل کریں اور قیدیوں کے وقار اور انسانی حقوق کا احترام کریں۔

تمام رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق حماس کی مالی معاونت کو محدود کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *