May 25, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/mrcapwebpage.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
وزیرداخلہ محسن نقوی سےبرطانوی ہائی کمشنرکی ملاقات

وزیرداخلہ محسن نقوی سےبرطانوی ہائی کمشنرجین میریٹ نےملاقات کی ۔برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کی اسلام آباد میں وزارت داخلہ آمد۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے خیرمقدم کیا ، ملاقات میں دوطرفہ سیکیورٹی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور ، پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کرکٹ سیریز پر بھی گفتگوہوئی۔ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات مزید مستحکم بنانے پر اتفاق ہوا۔برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے پی ایس ایل 9 کے کامیاب انعقاد پر محسن نقوی کو مبارکباد دی اوربلامقابلہ سینیٹر منتخب ہونے پر محسن نقوی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔برطانوی ہائی کمشنرکاکہناتھاکہ پی ایس ایل کے میچ دیکھ کر بہت انجوائے کیا۔ محسن نقوی کی پی سی بی کے ساتھ وزارت داخلہ میں کامیابی کے لیے دعا گو ہوں۔ امید ہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے میچوں سے شائقین کرکٹ محظوظ ہوں گے۔ پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیتا چاہتے ہیں۔وزیرداخلہ محسن نقوی کاکہناتھاکہ پاکستان اور برطانیہ کے تاریخی تعلقات کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔پاکستان مختلف شعبوں میں برطانیہ کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔پاکستان اور انگلینڈ کی ٹی ٹونٹی سیریز دونوں ٹیموں کی ورلڈکپ تیاری میں معاون ثابت ہوگی، پاکستان میں بسنے والے تمام شہریوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے،دہشتگردوں کو امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔محسن نقوی کامزیدکہناتھاکہ دہشت گردی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے ۔ نمٹنےکیلئے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔پاک فوج اورسکیورٹی اداروں نے اس جنگ میں شجاعت اور بہادری کی داستان رقم کی ہے۔ پاکستان برطانیہ کے ساتھ درینہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کا دونوں ملکوں کی ترقی میں خصوصی کردار قابل تعریف ہے، باہمی تعلقات کے فروغ کیلئے وفود کے تبادلے ضروری ہیں۔ انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا،برطانوی ہائی کمیشن کے حکام اور وزارت داخلہ کے متعلقہ افسران بھی اس موقع پرموجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *