May 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/mrcapwebpage.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
ضائع کرنے کیلئے وقت نہیں، مفاہمت ضروری، سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے: صدر، اپوزیشن کا شدید احتجاج، ہنگامہ
ضائع کرنے کیلئے وقت نہیں، مفاہمت ضروری، سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے: صدر، اپوزیشن کا شدید احتجاج، ہنگامہ
ضائع کرنے کیلئے وقت نہیں، مفاہمت ضروری، سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے: صدر، اپوزیشن کا شدید احتجاج، ہنگامہ
ضائع کرنے کیلئے وقت نہیں، مفاہمت ضروری، سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے: صدر، اپوزیشن کا شدید احتجاج، ہنگامہ
ضائع کرنے کیلئے وقت نہیں، مفاہمت ضروری، سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے: صدر، اپوزیشن کا شدید احتجاج، ہنگامہ
ضائع کرنے کیلئے وقت نہیں، مفاہمت ضروری، سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے: صدر، اپوزیشن کا شدید احتجاج، ہنگامہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) صدر مملکت آ صف علی زرداری نے کہا ہے کہ تمام لوگوں اور صوبوں کے ساتھ قانون کے مطابق یکساں سلوک ہونا چاہئے۔ ہمیں اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جامع ترقی کی راہیں کھولنا ہوں گی۔ تفریق سے ہٹ کر عصر حاضر کی سیاست کی طرف بڑھنا ملکی ضرورت ہے۔ اس ایوان کے ذریعے قوم کی پائیدار ترقی اور بلا تعطل ترقی کی بنیاد رکھی جانی چاہئے۔ ہمارے ملک کو دانشمندی اور پختگی کی ضرورت ہے۔ امیدہے ارکان پارلیمنٹ اختیارات کا دانشمندی سے استعمال کریں گے۔ میری رائے میں آج ایک نئے باب کا آغاز کرنے کا وقت ہے۔ آج کے دن کو ایک نئی شروعات کے طور پر دیکھیں۔ پولرائزیشن سے ہٹ کر عصرِ حاضر کی سیاست کی طرف بڑھنا ملکی ضرورت ہے۔ ہم حقیقی طور پر کوشش کریں تو سیاسی درجہ حرارت میں کمی لا سکتے ہیں۔ قائدین کے وژن کے مطابق باہمی احترام، سیاسی مفاہمت کی فضا کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پانا ناممکن نہیں۔ ملکی مسائل کے حل کیلئے بامعنی مذاکرات، پارلیمانی اتفاق رائے  درکار ہے۔ اس ایوان کو پارلیمانی عمل پر عوامی اعتماد بحال کرنے کیلئے قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایوان کے ذریعے قوم کی پائیدار اور بلاتعطل ترقی کی بنیاد رکھی جانی چاہیے۔ تعمیری اختلاف، پھلتی پھولتی جمہوریت کے مفید شعور کو نفع -نقصان کی سوچ کے ساتھ نہیں الجھانا چاہیے، بنیادی مسائل کے حل کیلئے کڑی اصلاحات پر بروقت عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا، ملک کو 21ویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ شہریوں کے سماجی حقوق، گڈ گورننس کیلئے اصلاحات کو فروغ دینا ہوگا، اپنی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فخر ہے، دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے قوم کے  عزم کا اعادہ کرتا ہوں، مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ  دینے پر دوست ممالک بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین، ترکیہ اور قطر کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تکمیل سمیت مشترکہ اہداف کے فروغ کیلئے چین کے ساتھ کام کرتے رہیں گے، ہم دشمن عناصر کو اہم منصوبے کو خطرے میں ڈالنے، دونوں ممالک کے مابین مضبوط تعلق کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ، چینی بھائیوں اور بہنوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کریں گے، چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تکمیل سمیت مشترکہ اہداف کے فروغ کیلئے چین کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ حق خودارادیت کے حصول تک پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی کلید ہے۔ پاکستان کو بے گناہ فلسطینیوں کے قتل، اسرائیلی فوج کی جانب سے بڑے پیمانے پر نسل کشی پر گہری تشویش ہے،  جانتا ہوں کہ ملک کو پیچیدہ سماجی، ماحولیاتی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، ہمارے مسائل پیچیدہ ضرور ہیں مگر ان کا حل ممکن ہے۔ صدر مملکت   نے ان خیالات  کا اظہارگذشتہ روز پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلپمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت کے خطاب کے دوران  اپوزیشن نے شور و غوغا جاری رکھا  جس کی وجہ سے  کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پہلے پارلیمانی سال کے آغاز پر تمام معزز ممبران کو انتخاب پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ وزیر اعظم، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو انتخابی کامیابیوں، ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتا ہوں۔ اعتماد کرنے، دوسری بار صدر منتخب کرنے پر اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ آج پارلیمانی سال کے آغاز پر مستقبل کیلئے وژن کو مختصراً بیان کروں گا۔ ماضی میں بطور صدر میرے اہم فیصلوں نے تاریخ رقم کی۔ بطور صدرمملکت میں نے  پارلیمنٹ کو اپنے اختیارات دینے کا انتخاب کیا۔ آج ہمارے ملک کو دانشمندی اور پختگی کی ضرورت ہے۔ امیدہے اراکین پارلیمنٹ اختیارات کا دانشمندی سے استعمال کریں گے۔  صدر کا کردار ایک متفقہ اور مضبوط وفاق کے اتحاد کی علامت ہے۔  تمام لوگوں اور صوبوں کے ساتھ قانون کے مطابق یکساں سلوک ہونا چاہیے، میری رائے میں آج ایک نئے باب کا آغاز کرنے کا وقت ہے، آج کے دن کو ایک نئی شروعات کے طور پر دیکھیں، اپنے لوگوں پر سرمایہ کاری کرنے، عوامی ضروریات پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی، ہمیں اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جامع ترقی کی راہیں کھولنا ہوں گی، ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے،  ہم حقیقی طور پر کوشش کریں تو سیاسی درجہ حرارت میں کمی لا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک کیلئے سب سے زیادہ اہم چیز کیا ہے، مشکلات کو مواقع میں بدلنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، مضبوط قومیں مشکلات کو مواقع میں بدلتی ہیں، قائد اعظم، شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر جمہوریت، رواداری اور سماجی انصاف کے علمبردار تھے۔ قائدین کے وژن کو اپنا کر ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے، قائدین کے وژن کے مطابق باہمی احترام، سیاسی مفاہمت کی فضا کو فروغ دیا جا سکتا ہے، ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پانا  ناممکن نہیں، ملکی مسائل کے حل کیلئے بامعنی مذاکرات، پارلیمانی اتفاق رائے  درکار ہے۔ بنیادی مسائل کے حل کیلئے کڑی اصلاحات پر بروقت عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔ جامع قومی ترقی، پالیسیوں پر عمل درآمد کیلئے صوبوں اور وفاق کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے، عوامی فلاح کیلئے وفاقی نظام کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ معیشت کی بحالی کیلئے سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا، غیر ملکی سرمایہ کاری لانا ہمارا بنیادی مقصد ہونا چاہیے، حکومت کاروباری ماحول سازگار بنانے کیلئے جامع اصلاحات کے عمل کو تیز کرے۔ مقامی، غیرملکی سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے پیچیدہ قوانین آسان بنانا ہوں گے، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا قیام خوش آئند ہے، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو خواتین کے حقوق کی علمبردار تھیں، شہید بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی اور سماجی طور پر کمزور طبقات کے حقوق کیلئے کام کیا، مجھے فخر ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک بھر میں لاکھوں خواتین کی امداد کر رہا ہے، بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی مدد سے خواتین کو مالی امداد، سماجی تحفظ اور چھوٹے کاروبار کیلئے سرمایہ فراہم کیا جارہا ہے، خوشی ہے کہ غربت کے خاتمے کے پروگرام سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 90 لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔ دہشتگردی کا عفریت ایک بار پھر اپنا گھناؤنا سر اٹھا رہا ہے۔ دہشتگردی سے ہماری قومی سلامتی، علاقائی امن و خوشحالی کو خطرہ ہے۔ پاکستان دہشتگردی کو ایک مشترکہ خطرہ سمجھتا ہے۔ دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، پڑوسی ممالک سے دہشت گرد گروہوں کا سختی سے نوٹس لینے کی توقع رکھتے ہیں، دہشت گرد گروہ ہماری سکیورٹی فورسز اور عوام کے خلاف حملوں میں ملوث ہیں، پاکستان کو بے گناہ فلسطینیوں کے قتل، اسرائیلی فوج کی جانب سے بڑے پیمانے پر نسل کشی پر گہری تشویش ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے قوم کے  عزم کا اعادہ کرتا ہوں، میری اہلیہ اور دو بار منتخب وزیر ِاعظم بے نظیر بھٹو شہید نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جان دی۔  دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اتحاد اور تحریک پیدا کرنے میں کبھی بھی پیچھے نہیں رہوں گا۔ ہمیں اپنی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فخر ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ، قومی سرحدوں کے دفاع میں بے پناہ قربانیاں دیں۔ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ  دینے پر دوست ممالک بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین، ترکیہ اور قطر کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ صدر آصف  علی زرداری نے کہا کہ امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ ہمارے تجارتی پارٹنر رہے ہیں، امید ہے کہ امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ کیساتھ تعاون میں مزید اضافہ ہوگا۔ مختلف شعبوں میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت پر چین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پاک-چین پائیدار تزویراتی اور سدا بہار دوستی خطے میں استحکام کی بنیاد ہے۔ ہم علاقائی امن، روابط  اور خوشحالی کے فروغ اور استحکام برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تکمیل سمیت مشترکہ اہداف کے فروغ کیلئے چین کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ ہم دشمن عناصر کو اہم منصوبے کو خطرے میں ڈالنے، دونوں ممالک کے مابین مضبوط تعلق کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ چینی بھائیوں اور بہنوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔ صدر مملکت نے کہا کہ دنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کیلئے جاری جدوجہد میں کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کشمیری مسلمانوں کو اپنے ہی وطن میں اقلیت میں بدلنے کی بھارتی حکمت عملی کا حصہ ہے، پاکستان بھارت کے یک طرفہ اقدامات کو مسترد کرتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ  5 اگست 2019 اور اس کے بعد لیے گئے تمام غیر قانونی اقدامات واپس لے۔
اسلام آباد (وقارعباسی /وقائع نگار) پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سنی اتحاد کونسل کے ارکان کے روایتی احتجاج کے باعث ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا۔ پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن سے صدر مملکت آصف علی زرداری کے خطاب کے موقع پر ایوان کے اندر و باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ اجلاس سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو کے ہمراہ ان کی چھوٹی ہمشیرہ  نومنتخب رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو کی بھرپور رونمائی ہوئی۔  پی پی اور مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر جماعتوں  کے اراکین نے ان کی نشست پر جاکر انہیں مبارک باد پیش کی۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری آصفہ کے ہمراہ مسلسل اپنی نشت پر کھڑے رہے۔ مشترکہ اجلاس میں مختلف ملکوں کے سفارت کاروں کی بڑی تعداد، چاروں سروسز چیفس  کے نمائندوں سمیت دیگر اعلی عہدیداروں نے شرکت کی۔ 4بج کر 15منٹ پر قائد ایوان وزیراعظم میاں شہباز شریف ایوان میں تشریف لائے تو حکومتی بنچوں نے ان کا تالیاں بجا کر استقبال کیا۔ وزیراعظم بلاول بھٹو، آصفہ بھٹو زرداری سے ملتے ہوئے دیگر اراکین کے بنچوں پر تشریف لے گئے اور ان سے مصافحہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی۔  4بج کر 16منٹ پر اپوزیشن اراکین قائد حزب اختلاف عمر ایوب کی قیادت میں ہاتھوں میں عمران خان کی تصاویر اٹھائے اور گلے میں پارٹی پرچم ڈالے ایوان میں داخل ہوائے۔ 4بچ کر 17منٹ پر صدر مملکت آصف علی زرداری ایوان میں داخل ہوئے تو حکومتی بنچوں سے ان کا تالیاں اور نعروں سے استقبال کیا گیا۔ صدر کے ایوان میں آنے پر سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے حسب روایت اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر نعرے بازی کی۔ اس دوران قومی ترانہ شروع ہو گیا تاہم اپوزیشن کے اراکین قومی ترانے کے دوران بھی نعروں سے باز نہ رہے جس کے بعد ایوان کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز سورہ  العصر کی تلاوت سے کیا گیا جس کے بعد (کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا) کی نعت پیش کی گئی۔ ہدیہ نعت کے بعد اپوزیشن اراکین نے  سپیکر کے ڈائس کے سامنے اکٹھے ہو کر احتجاج شروع کردیا۔ حزب اختلاف نے شرم کرو ۔۔ حیا کرو ، عمران کو رہا کرو۔ گو زرداری، گو زرداری، گو نواز گو، گو شہباز گو شہباز کے نعرے لگائے اور صدر کی تقریر میں مسلسل خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ جمشید دستی کی جانب سے صدر کے خطاب کے دوران ڈائس کے سامنے عمران خان کی تصویر لگانے پر سارجنٹ ایٹ آرم نے بینر قبضہ میں لے کر ڈائس کے سامنے سکیورٹی کا حصار بنالیا۔ ایوان کے ماحول میں اس وقت کشیدگی  پیدا ہو گئی جب پاکستان پیپلزپارٹی کے آغا رفیع اللہ اور عبدالقادر پٹیل کی سنی اتحاد کونسل کے اراکین جو ڈائس کے سامنے نعرے لگا رہے تھے ان سے مڈبھیر ہوگئی۔ معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا۔ جہاں پاکستان پیپلزپارٹی کے چند سنجیدہ اراکین جن میں راجاپرویز اشرف بھی شامل تھے نے بیچ بچا کروایا۔ اس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے اراکین نے ڈائس پر جمع ہو کر اپوزیشن کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ صدر مملکت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب انگریزی میں کیا۔ خطاب کے دوران حکومتی اور اپوزیشن کے اراکین نے ایک دوسرے کے خلاف کھل کر نعرے بازی کی۔ ایوان میں اپوزیشن اراکین نے بگل (باجے ) اور سیٹیاں بجائیں جس سے ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی۔ پورا ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر ناصر بٹ، حنیف عباسی، طارق فضل، انجم عقیل، ملک ابرار، دانیال عزیز سمیت دیگر نے وزیراعظم کی نشست کے سامنے حفاظتی حصار قائم کیے رکھا اور ہاتھوں میں گھڑیاں لہرا کر اپوزیشن کے نعروں کے جواب دیا۔ شور شرابے اور ہنگامہ آرائی اور اپوزیشن کی مسلسل ڈائس کی جانب  بڑھنے کے باعث سپیکر نے سیکرٹری کو ہدایات جاری کیں جس کے باعث سارجٹ ایٹ آرم نے ڈائس کے گرد سکیورٹی کا مزید حصار بنوادیا۔ الغرض صدر کا پارلیمنٹ سے خطاب ہنگامہ آرائی کی نذر ہوا اور 25منٹ کی تقریر کے بعد سپیکر نے اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *